مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انصاراللہ یمن کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین حوثی نے قرآن کریم کی بے حرمتی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن کی بار بار توہین صہیونیوں کی تمام مقدس دینی اصولوں سے دشمنی اور پیغام الہی سے ان کی بیزاری کو ظاہر کرتی ہے۔
المسیرہ کے مطابق عبدالملک حوثی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات کی پاکیزگی اور بلندی ہی وہ چیز ہے جس سے صہیونی نظریے کو مسئلہ ہے، کیونکہ قرآن انسان کو ہدایت، عدل اور آزادی کی طرف بلاتا ہے۔ صہیونی عناصر جانتے ہیں کہ قرآن انسانوں کے سامنے ان کے حقیقی کردار کو بے نقاب کرتا ہے اور معاشروں کو ان کے گمراہ کن اثرات سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن ہدایت یافتہ انسانوں کو طاغوت کی غلامی سے آزاد اور انہیں زمین پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ قرآن کی تعلیمات زندگی میں عدل کے قیام پر زور دیتی ہیں، جبکہ صہیونی طرز عمل ظلم، جارحیت اور طاقت کے غلبے پر مبنی ہے۔
حوثی نے کہا کہ صہیونی چاہتے ہیں کہ انسانی معاشرہ جنگل کے قانون کی طرح چلتا رہے، جہاں طاقتور کمزور کو کھا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں ہونے والے جرائم اور دنیا بھر میں سامنے آنے والے مختلف اسکینڈلز نے صہیونیوں کے کردار کے بارے میں بہت سے سوالات پیدا کیے ہیں۔ قرآن کریم کی بے حرمتی یا مصحف جلانے سے قرآن کی عظمت اور تقدس کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا بلکہ ایسی حرکتیں خود اس عمل کے مرتکبین کی دشمنی اور پستی کو ظاہر کرتی ہیں۔
انصاراللہ کے سربراہ نے کہا کہ قرآن کریم کی توہین کے خلاف مسلم ممالک کو محض مذمت تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سیاسی اور اقتصادی سطح پر سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ اگر اسلامی ممالک سیاسی و اقتصادی پابندیوں کا راستہ اختیار کریں تو امریکہ اور مغربی ممالک پر قرآن کی توہین روکنے کے لیے مؤثر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مسلم عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ امریکہ اور ان ممالک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کو فعال کریں جو قرآن کی توہین کی حمایت یا سرپرستی کرتے ہیں۔ اقتصادی دباؤ ایسے اقدامات کو روکنے میں مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
عبدالملک حوثی نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ قرآن کریم کے ساتھ اپنا تعلق مزید مضبوط کریں، کیونکہ قرآن سے وابستگی مسلمانوں کو اپنی دینی ذمہ داریاں ادا کرنے اور اپنے عالمی و دعوتی کردار کو دوبارہ فعال کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا قرآن سے مضبوط تعلق صہیونیوں اور ان کے حامیوں کی ان کوششوں کے خلاف ایک مؤثر جواب ہے جن کا مقصد مسلمانوں کے دلوں میں قرآن کی عظمت اور تقدس کو کم کرنا اور انہیں اس کی ہدایت سے دور کرنا ہے۔
حوثی نے زور دیا کہ قرآن کریم کو مسلمانوں کی ترجیحات میں سب سے اوپر ہونا چاہیے اور اس سے وابستگی صرف تلاوت تک محدود نہ رہے بلکہ قرآن کی تعلیمات اور اقدار کو زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کی توہین کے خلاف یمنی عوام کا مؤقف اقتصادی بائیکاٹ، دینی وابستگی، مزاحمت اور آزادی کی جدوجہد کے ذریعے سامنے آ رہا ہے۔
انصاراللہ کے سربراہ نے کہا کہ دشمنوں کی جانب سے قرآن کریم کی توہین کے خلاف مؤقف اختیار کرنا اور اس کے لیے عملی اقدامات کرنا پیغمبر اکرمؐ کی ولادت کی مناسبت سے ہونے والی تقریبات اور پروگراموں کے اہم موضوعات میں شامل ہونا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ